Transliteration: (Wa laa takoonoo kallazeena nasul laaha fa ansaahum anfusahum; ulaaa'ika humul faasiqoon)
{وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ: اور ان لوگوں کی طرح نہ بنوجنہوں نے اللّٰہ کو بھلا دیا۔ } یعنی اے ایمان والو! ان یہودیوں اور منافقوں کی طرح نہ ہوناجنہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے حقوق کو بھلا دیا اورجیسی ا س کی قدر کرنے کا حق تھا ویسی قدر نہ کی اور ا س کے احکامات و ممنوعات کی ان کے حق کے مطابق رعایت نہ کی، تو اس کے سبب اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جانوں کو بھول جانے والا بنا دیا(جس کا نتیجہ یہ ہوا )کہ وہ اس چیز کو نہیں سنتے جو انہیں نفع دے اور وہ کام نہیں کرتے جو انہیں نجات دے اوریہ بھول جانے والے ہی کامل فاسق ہیں ۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۹ / ۴۴۹-۴۵۰)
آیت’’وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)…جن لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے حقوق یاد نہ رہے جیسے یہودی اور عیسائی وغیرہ ،ان جیسا ہونے سے منع فرمایاگیاہے۔
(2)… اسلام کے سوا کسی اور دین میں رہ کر اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرنا قابلِ قبول نہیں ، کیونکہ وہ کفار اپنے عقیدے کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کرتے تھے،لیکن ارشاد فرمایا کہ انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کو بھلا دیا۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ سے غافل ہونے کا اثر یہ ہو تا ہے کہ بندے کو اس بات کی کبھی فکر نہیں ہوتی کہ وہ دنیا میں کیوں آیا اور اسے کیا کرنا چاہیے۔
(4)… آخرت کی فکر نہ ہونا اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الحشر آیت 19 تفسیر