Transliteration: (Innaa nahnu nazzalnaa 'alaikal quraana tanzeelaa)
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًا: بیشک ہم نے تم پر تھوڑا تھوڑا کرکے قرآن اتارا۔} اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ پر ایک ہی مرتبہ پورا قرآن نازل نہیں کیا بلکہ آیت آیت کر کے تھوڑا تھوڑا نازل کیا اورا س میں اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی حکمتیں ہیں ۔اس سے مقصودحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دل کو تَقْوِیَت دینا ہے ، گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ کافر اگرچہ قرآن کو کہانَت اور جادو کہتے ہیں لیکن میں تاکید کے ساتھ فرماتا ہوں کہ یہ قرآن میری طرف سے وحی ہے،حق ہے اورہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے لہٰذا آپ کافروں کی طعنہ زنی سے دِلبرداشتہ نہ ہوں کیونکہ آپ سچے نبی ہیں ۔( خازن، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۳، ۴ / ۳۴۱، روح البیان، الانسان، تحت الآیۃ: ۲۳، ۱۰ / ۲۷۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الإنسان آیت 23 تفسیر