قرآن - 72:18 سورہ الجن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

18
وَأَنَّ ٱلۡمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا

Transliteration: (Wa annal masaajida lil laahi falaa tad'oo ma'al laahi 'ahada)

ترجمہ: کنزالایمان - وَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا(18) || اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی بندگی نہ کرو۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔ || اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الجن آیت 18 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ: اور یہ کہ مسجدیں  اللّٰہ ہی کی ہیں ۔} یعنی میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جو مکان (بطورِ خاص) نماز ادا کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بنائے گئے ہیں  ان کا مالک اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے لہٰذا اے مسلمانو! جب تم ان مسجدوں  میں  جاؤ تو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو جیسا کہ یہودیوں  اور عیسائیوں  کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے گرجاؤں  اور عبادت خانوں  میں  شرک کرتے تھے۔( خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴ / ۳۱۸، جلالین، الجن، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۴۷۷، ملتقطاً)اس آیت کو لے کر بعض جاہل لوگ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ پکارنے کو حرام قرار دیتے ہیں  حالانکہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تو مسجد میں  عین حالت ِ نماز میں  پکارا جاتا ہے جب اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ کہا جاتا ہے۔آیت میں  پکارنے سے مراد معبود بنا کر پکارنا ہے، نہ کہ کسی بھی طرح کسی کو بھی پکارنا منع ہوجائے۔

آیت ’’وَ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

             اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں ،

(1)…وقف اور احترام کے احکام میں  تمام مسجدیں  برابر ہیں  اگرچہ بعض مَساجد میں  نماز ادا کرنے پر ملنے والے اجرو ثواب میں  فرق ہے۔

(2)…مسجد خاص اللّٰہ تعالیٰ کی ہے اور ا س کے علاوہ کسی کی مِلک ہے نہ ہو سکتی ہے ۔

(3)… شرک و بت پرستی ہر جگہ جرم ہے لیکن مسجدمیں  زیادہ جرم ہے کہ اس میں  مسجد کی بے ادبی ہے ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now