قرآن - 58:19 سورہ المجادلة ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

19
ٱسۡتَحۡوَذَ عَلَيۡهِمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَأَنسَىٰهُمۡ ذِكۡرَ ٱللَّهِۚ أُوْلَـٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱلشَّيۡطَٰنِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱلشَّيۡطَٰنِ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ

Transliteration: (Istahwaza 'alaihimush shaitaanu fa ansaahum zikral laah; ulaaa'ika hizbush shaitaaan; alaaa innaa hizbash shaitaani humul khaasiroon)

ترجمہ: کنزالایمان - اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(19) || ان پر شیطان غالب آگیا تو اُنھیں اللہ کی یاد بھلا دی وہ شیطان کے گروہ ہیں سُنتا ہے بے شک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ان پر شیطان غالب آگیا تو اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کا گروہ ہیں ،سن لو! بیشک شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے۔ || ان پر شیطان غالب آگیا تو اس نے انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کا گروہ ہیں ،سن لو! بیشک شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المجادلة آیت 19 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ: ان پر شیطان غالب آگیا۔} یعنی منافقوں  کا یہ حال اس لئے ہوا کہ ان پر شیطان غالب آگیا ہے جس کی وجہ سے ان کی اپنی سوچ سمجھ ختم ہوچکی ہے ،شیطان انہیں جن کاموں  میں  چاہتاہے لگادیتاہے اورجب ان کی یہ حالت ہوگی توپھرانہیں  اللّٰہ تعالیٰ کے ذکرکی کب پرواہ ہوگی اوریہ کب اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کویادکریں  گے ۔ وہ منافق شیطان کے گروہ ہیں  اورسن لو! بیشک شیطان کا گروہ ہی خسارہ پانے والا ہے کہ جنت کی دائمی نعمتوں  سے محروم اور جہنم کے ابدی عذاب میں  گرفتار ہو گا۔

شیطان کے غلبہ کی ایک علامت:

            تفسیر مدارک میں  ہے،شاہ کرمانی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :بندے پر شیطان کے غالب آنے کی علامت یہ ہے کہ شیطان اسے کھانے، پینے اور پہننے میں  مشغول کر دیتا ہے،بندے کے دل کو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  اور اس کے انعامات میں  غوروفکر کرنے اور ان نعمتوں  کا شکر ادا کرنے سے غافل کر دیتا ہے،بندے کو اس کے رب تعالیٰ کا ذکر کرنے سے غافل کر کے جھوٹ،غیبت اور بہتان تراشی میں  مصروف کر دیتا ہے اور بندے کے دل میں  دنیا (کا مال) جمع کرنے اور دنیا سنوارنے کی لگن ڈال کر اسے غور وفکر کرنے اور اپنے انجام کے بارے میں  سوچنے سے غافل کر دیتا ہے۔( مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۹، ص۱۲۲۱، ملخصاً)

            ان علامات کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے حال اور اپنے اعمال پر غور کرے ، اگر اس میں  مذکورہ بالا علامات نہیں  پا ئی جاتیں  تو اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس سے مزید توفیق اورا ستقامت حاصل ہونے کی دعا کرتا رہے اور اگر ا س میں  یہ علامات پائی جاتی ہیں  تو اسے چاہئے کہ فوراً ہوشیار ہو جائے اور اپنے اوپر سے شیطان کا غلبہ دور کرنے کی کوششوں  میں  مصروف ہو جائے تاکہ قیامت کے دن شیطان کے گروہ میں  شامل ہونے اور ان جیسے برے انجام سے بچ سکے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں  شیطان پر غلبہ نصیب فرمائے،اٰمین۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now