Transliteration: (Alam tara annal laaha ya'lamu maa fis samaawaati wa maa fil ardi maa yakoonu min najwaa salaasatin illaa Huwa raabi'uhum wa laa khamsatin illaa huwa saadisuhum wa laaa adnaa min zaalika wa laaa aksara illaa huwa ma'ahum ayna, maa kaanoo summa yunabbi'uhum bimaa 'amiloo yawmal qiyaamah; innal laaha bikulli shai'in aleem)
{اَلَمْ تَرَ: (اے بندے!) کیا تو نے نہ دیکھا۔} اس سے پہلی آیت کے آخر
میں بیان ہوا کہ’’ اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ
ہے‘‘ اور اس آیت میں تاکید کے ساتھ یہ بات بیان کی جا رہی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ تمام معلومات کو جانتا ہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے
سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور
جو کچھ زمین میں ہے سب اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے، اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں حتّٰی کہ
جہاں کہیں تین شخص سرگوشی سے بات کریں اور اپنے
راز آپس میں ایک دوسرے کو آہستہ آواز سے بتائیں اور اپنی
مشاورت پر کسی کو مطلع نہ کریں توان میں چوتھا اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کا مشاہدہ کرتا ہے، ان کی سرگوشی اور ان کے رازو
ں کو جانتاہے اور اگر پانچ لوگ سرگوشی سے بات کریں تو وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی ان کا چھٹا ہوتا ہے اور (یہ چیز اسی تعداد پر موقوف
نہیں بلکہ ) تین سے کم اور پانچ سے زیادہ جتنے بھی لوگ ہوں ، اللّٰہ تعالیٰ اپنے علم و قدرت سے ان سب کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ
جہاں کہیں بھی ہوں ، پھر اللّٰہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا اور انہیں ان کے اعمال کی جزا دے گا، بیشک اللّٰہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔( تفسیرکبیر، المجادلۃ،تحت الآیۃ: ۷، ۱۰ / ۴۹۰، خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۲۳۹، مدارک، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۲۱۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المجادلة آیت 7 تفسیر