Transliteration: (Wa laqad kazzabal lazeena min qablihim fakaifa kaana nakeer)
{وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ: اور بیشک ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے اور کفارِمکہ کو اپنے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اے پیارے حبیب!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِمکہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ا س پر آپ غم نہ فرمائیں کیونکہ کفارِ مکہ سے پہلی اُمتوں کے کفار جیسے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور قومِ عاد وغیرہ نے بھی میرے رسولوں کو جھٹلایا تو جب میں نے انہیں ہلاک کیا تو ا س وقت میراانکار کیسا ہوا،کیا انہوں نے میرے عذاب کوحق نہیں پایا۔ضرور انہوں نے میرے عذاب کو حق پایا ہے ۔( ابو سعود ، الملک ، تحت الآیۃ : ۱۸ ، ۵ / ۷۴۸ ، صاوی ، الملک ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۶ / ۲۲۰۵، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۱۸، ۴ / ۲۹۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الملك آیت 18 تفسیر