Transliteration: (Amman haazal lazee huwa jundul lakum yansurukum min doonir rahmaan; inilkaafiroona illaa fee ghuroor)
{اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ هُوَ جُنْدٌ لَّكُمْ: یا وہ کون سا تمہارا لشکر ہے۔} کفارِمکہ دو چیزوں پر اعتماد کرتے ہوئے ایمان قبول کرنے سے انکار کرتے اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے دشمنی رکھتے تھے۔(1)مالی اور افرادی قوت۔ (2)ان کا یہ عقیدہ کہ بت ان تک بھلائیاں پہنچاتے ہیں اور ان سے نقصانات دور کرتے ہیں ۔اللّٰہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلی چیز کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’اے کافرو!اگر اللّٰہ تعالیٰ تمہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو تمہارا وہ کون سا لشکر ہے جو رحمٰن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور تم سے اس کا عذاب دور کر دے گا،تمہارا کوئی مددگار نہیں اور کافر صرف شیطان کے اس فریب میں ہیں کہ اُن پر عذاب نازل نہ ہوگا۔( جلالین مع صاوی، الملک، تحت الآیۃ: ۲۰، ۶ / ۲۲۰۵-۲۲۰۶، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴ / ۲۹۲، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الملك آیت 20 تفسیر