Transliteration: (Qul ara'aytum in asbaha maaa'ukum ghawran famai ya'teekum bimaaa'im ma'een)
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے دلیل کے طور پر اپنی ایک نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان مشرکین سے فرما دیں کہ اگر صبح کو تمہارا پانی زمین میں دھنس جائے اور اتنی گہرائی میں پہنچ جائے کہ ڈول وغیرہ سے بھی ہاتھ نہ آسکے تو وہ کون ہے جو تمہیں نگاہوں کے سامنے بہتاہواپانی لادے کہ اُس تک ہر ایک کا ہاتھ پہنچ سکے۔اس کے جواب میں وہ ضرورکہیں گے کہ یہ صرف اللّٰہ تعالیٰ ہی کی قدرت میں ہے تو اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ بت جو کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے انہیں کیوں عبادت میں اُس قادرِ برحق کا شریک کرتے ہو۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴ / ۲۹۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الملك آیت 30 تفسیر