قرآن - 67:27 سورہ الملك ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

27
فَلَمَّا رَأَوۡهُ زُلۡفَةٗ سِيٓـَٔتۡ وُجُوهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ وَقِيلَ هَٰذَا ٱلَّذِي كُنتُم بِهِۦ تَدَّعُونَ

Transliteration: (Falammaa ra-awhu zulfatan seee'at wujoohul lazeena kafaroo wa qeela haazal lazee kuntum bihee tadda'oon)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓــٴَـتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ(27) || پھر جب اسے پاس دیکھیں گے کافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور ان سے فرمایا جائے گایہ ہے جو تم مانگتے تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں گے توکافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور(ان سے) کہاجائے گا :یہی ہے وہ عذاب جو تم مانگتے تھے۔ || پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں گے توکافروں کے منہ بگڑ جائیں گے اور(ان سے) کہاجائے گا :یہی ہے وہ عذاب جو تم مانگتے تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الملك آیت 27 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً: پھر جب وہ اسے قریب دیکھیں  گے۔} اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب کفار آخرت میں  اس  عذاب کو اپنے قریب دیکھیں  گے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے تو کافروں  کے چہرے سیاہ پڑ جائیں  گے اور وحشت و غم سے ان کی صورتیں  خراب ہوجائیں  گی اورجہنم کے فرشتے ان سے کہیں  گے یہ وہ عذاب ہے جو مذاق کے طور پرتم مانگتے تھے اور اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہتے تھے کہ وہ عذاب کہاں  ہے جلدی لاؤ ،اب دیکھ لو یہ ہے وہ عذاب جس کی تمہیں  طلب تھی۔( مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۱۲۶۵، روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۲۷، ۱۰ / ۹۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now