Transliteration: (Fa izas tawaita anta wa mam ma'aka 'alal fulki faqulil hamdu lillaahil lazee najjaanaa minal qawmiz zalimeen)
{فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ: تو تم کہناتمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں ۔} کافروں سے نجات حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والے تمام لوگوں کو نصیب ہوئی لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنے کا حکم صرف حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیاگیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے نبی اور امام تھے تو اِن کا حمد و ثنا کرنااُن ایمان والوں کا حمد و ثنا کرنا ہے نیز اس میں اللہ تعالیٰ کی کِبریائی اور رَبوبِیَّت اور نبوت کی عظمت و فضیلت کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا وہ عظیم رتبہ ہے جو فرشتے اور نبی کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوتا۔( تفسیرکبیر، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۲۸، ۸ / ۲۷۳) نیز بحیثیت ِ نبی حمد کا حکم حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کو ہوا تو امت نے اس کی پیروی کرنی تھی۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 28 تفسیر