قرآن - 23:28 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

28
فَإِذَا ٱسۡتَوَيۡتَ أَنتَ وَمَن مَّعَكَ عَلَى ٱلۡفُلۡكِ فَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي نَجَّىٰنَا مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ

Transliteration: (Fa izas tawaita anta wa mam ma'aka 'alal fulki faqulil hamdu lillaahil lazee najjaanaa minal qawmiz zalimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ(28) || پھر جب ٹھیک بیٹھے کشتی پر تُو اور تیرے ساتھ والے تو کہہ سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر جب تم اور تمہارے ساتھ والے کشتی پر ٹھیک بیٹھ جاؤ تو تم کہناتمام تعریفیں اس اللہ کیلئے جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی۔ || پھر جب تم اور تمہارے ساتھ والے کشتی پر ٹھیک بیٹھ جاؤ تو تم کہناتمام تعریفیں اس اللہ کیلئے جس نے ہمیں ان ظالموں سے نجات دی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 28 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ: تو تم کہناتمام تعریفیں   اللہ کیلئے ہیں ۔} کافروں  سے نجات حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والے تمام لوگوں  کو نصیب ہوئی لیکن اس پر  اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرنے کا حکم صرف حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیاگیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے نبی اور امام تھے تو اِن کا حمد و ثنا کرنااُن ایمان والوں  کا حمد و ثنا کرنا ہے نیز اس میں   اللہ تعالیٰ کی کِبریائی اور رَبوبِیَّت اور نبوت کی عظمت و فضیلت کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کیونکہ  اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونا وہ عظیم رتبہ ہے جو فرشتے اور نبی کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں  ہوتا۔( تفسیرکبیر، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۲۸، ۸ / ۲۷۳)  نیز بحیثیت ِ نبی حمد کا حکم حضرت نوح عَلَیْہِ  السَّلَام کو ہوا تو امت نے اس کی پیروی کرنی تھی۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now