قرآن - 23:29 سورہ المؤمنون ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

29
وَقُل رَّبِّ أَنزِلۡنِي مُنزَلٗا مُّبَارَكٗا وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ

Transliteration: (Wa qur Rabbi anzilnee munzalam mubaarakanw wa Anta khairul munzileen)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ(29) || اور عرض کر کہ اے میرے رب مجھے برکت والی جگہ اتار اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور عرض کرنا: اے میرے رب !مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔ || اور عرض کرنا: اے میرے رب !مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 29 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ قُلْ: اور عرض کرنا۔} یعنی کشتی سے اُترتے وقت یا اس میں سوار ہوتے وقت عرض کرنا کہ: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ،   مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔کشتی میں سوار ہوتے وقت کی برکت عذاب سے نجات ہے اور کشتی سے اترتے وقت کی برکت نسل کی کثرت اور پے درپے بھلائیوں کا ملنا ہے۔(مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۲۹،  ص۷۵۶)اس آیت میں اشارہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایسی برکت والی جگہ کی دعامانگنی چاہئے جس میں اس کے  لئے  دین اور دنیا دونوں کی برکتیں ہوں ۔(روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶ / ۸۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now