Transliteration: (Wa qur Rabbi anzilnee munzalam mubaarakanw wa Anta khairul munzileen)
{وَ قُلْ: اور عرض کرنا۔} یعنی کشتی سے اُترتے وقت یا اس میں سوار ہوتے وقت عرض کرنا کہ: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے برکت والی جگہ اتار دے اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔کشتی میں سوار ہوتے وقت کی برکت عذاب سے نجات ہے اور کشتی سے اترتے وقت کی برکت نسل کی کثرت اور پے درپے بھلائیوں کا ملنا ہے۔(مدارک، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۲۹، ص۷۵۶)اس آیت میں اشارہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایسی برکت والی جگہ کی دعامانگنی چاہئے جس میں اس کے لئے دین اور دنیا دونوں کی برکتیں ہوں ۔(روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: ۳۰، ۶ / ۸۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المؤمنون آیت 29 تفسیر