Transliteration: (Wa zarnee walmukaz zibeena ulin na'mati wa mahhilhum qaleelaa)
{وَ ذَرْنِیْ وَ الْمُكَذِّبِیْنَ اُولِی النَّعْمَةِ: اور ان جھٹلانے والے مالداروں کومجھ پر چھوڑو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ کو اور قرآن کو جھٹلانے والے ان مالداروں کو مجھ پر چھوڑ دیں ،میں آپ کی طرف سے انہیں کافی ہوں اور انہیں بدر کے دن تک تھوڑی مہلت دیں ۔چنانچہ کچھ ہی مدت بعد یہ لوگ بدر کی جنگ میں قتل کر دئیے گئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہاں تھوڑی مہلت دینے سے مراد قیامت کے دن تک مہلت دینا ہے۔( روح البیان،المزمل،تحت الآیۃ: ۱۱، ۱۰ / ۲۱۳-۲۱۴، جلالین، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۴۷۸، مدارک، المزمل، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۲۹۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المزمل آیت 11 تفسیر