قرآن - 73:9 سورہ المزمل ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

9
رَّبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذۡهُ وَكِيلٗا

Transliteration: (Rabbul mashriqi wal maghriibi laaa ilaaha illaa Huwa fattakhizhu wakeelaa)

ترجمہ: کنزالایمان - رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(9) || وہ پورب کا رب اور پچھم کا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔ ترجمہ: کنزالعرفان وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔ || وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ المزمل آیت 9 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ مشرق و مغرب اور ان کے درمیان موجود تمام چیزوں  کا رب اور ان کا خالق و مالک ہے،اس کے علاوہ اور کوئی معبود ہی نہیں  لہٰذا تم اپنے دینی اور دُنْیَوی تمام اُمور میں  اسی کو اپنا کارساز بناؤ اوراپنے کام اسی کے سپرد کردو اور اسی پر بھروسہ کرو۔( روح البیان، المزمل، تحت الآیۃ: ۹، ۱۰ / ۲۱۲، خازن، المزمل، تحت الآیۃ: ۹، ۴ / ۳۲۳، ملتقطاً)

حقیقی کارساز صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے :

             یاد رہے کہ حقیقی کارساز صرف اللّٰہ تعالیٰ ہے اور سب کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے البتہ اس کا یہ مطلب نہیں  کہ انسان اسباب کو اختیار کرنا چھوڑ دے اور صرف اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائے بلکہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اسباب ضرور اختیار کرے لیکن ان اسباب پر بھروسہ نہ کرے بلکہ صرف اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے جیسے ہر ایک کو روزی دینا اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ ٔکرم پر لیا ہو اہے،اب اس کا یہ مطلب نہیں  کہ انسان سب کچھ چھوڑ کر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے روزی ملنے کی امید لگاکر گھر بیٹھ جائے اور رزق حاصل ہونے کے اَسباب اختیار کرنا چھوڑ دے ،اس طرح اگر وہ ساری عمر بھی بیٹھا رہے گا تو اسے ایک لقمہ بھی نہیں  ملے گا۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now