Transliteration: (Sa-ya'lamoona ghadan manil kazzaabul ashir)
{ ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا: کیا ہم سب میں سے (صرف)اس پر
وحی ڈالی گئی؟۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ
حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمود نے انہیں جھٹلاتے ہوئے کہا کہ کیا ہم سب
میں سے صرف حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر وحی نازل کی
گئی ہے حالانکہ ہم میں ایسے لوگ موجود
ہیں جن کے پاس دولت کی کثرت ہے اور ان کا حال بھی بہت اچھا ہے۔ایسا
ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بڑا جھوٹا ،مُتکبِّر ہے کہ نبوت کا
دعویٰ کرکے بڑاآدمی بننا چاہتا ہے۔ ( مَعَاذَ اللہ)اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ’’جب وہ حضرت صالحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کئے
جائیں گے تو بہت جلد خود ہی جان جائیں گے کہ ان
میں سے کون بڑا جھوٹا اور مُتکبِّرتھا۔(روح البیان ، القمر ، تحت
الآیۃ: ۲۵-۲۶ ، ۹ / ۲۷۷ ، خازن
، القمر ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶ ، ۴ / ۲۰۴، جلالین، القمر، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶، ص۴۴۱، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القمر آیت 26 تفسیر