Transliteration: (Fakaifa kaana 'azaabee wa nuzur)
{ فَكَیْفَ كَانَ
عَذَابِیْ وَ نُذُرِ: تو
میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ
میرا عذاب اور میرے ڈرکے فرمان جو عذاب نازل ہونے سے پہلے ان کے
پاس میری طرف سے آئے تھے اور اپنے موقع پر واقع ہوئے وہ کیسے ہوئے۔( جلالین، القمر، تحت الآیۃ: ۳۰، ص۴۴۲)
دوسری
تفسیر یہ ہے کہ اے کفارِ قریش! جب میں نے قومِ ثمود کو عذاب دیا تو
انہیں میرا عذاب دینا کیسا ہوا؟ کیا میں نے
انہیں زلزلے سے ہلاک نہیں کیا اور میں نے جس
عذاب سے انہیں ہلاک کیا اس سے بعد والی امتوں کو میرا ڈرانا کیسا ہوا!( تفسیر طبری، القمر، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱۱ / ۵۶۱)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القمر آیت 30 تفسیر