قرآن - 54:5 سورہ القمر ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

5
حِكۡمَةُۢ بَٰلِغَةٞۖ فَمَا تُغۡنِ ٱلنُّذُرُ

Transliteration: (Hikmatun baalighatun famaa tughnin nuzur)

ترجمہ: کنزالایمان - حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ(5) || انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں ڈر سنانے والے۔ ترجمہ: کنزالعرفان ۔(یہ قرآن) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت ہے تو (ایسوں کو) ڈر انے والے امور فائدہ نہیں دیتے۔ || ۔(یہ قرآن) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت ہے تو (ایسوں کو) ڈر انے والے امور فائدہ نہیں دیتے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القمر آیت 5 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ: انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو جب کافر ڈرسنانے والوں  کی مخالفت کریں  گے اور انہیں  جھٹلائیں  گے تو یہ انہیں  کیا فائدہ دیں  گے۔ (خازن، القمر، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۲۰۲)اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’ قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ‘‘(یونس:۱۰۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں  اور زمین میں  کیا کیا (نشانیاں ) ہیں  اور نشانیاں  اور رسول ان لوگوں  کو کوئی فائدہ نہیں  دیتے جو ایمان نہیں  لاتے۔

          دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ قرآن انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو (کافروں  کو پھربھی) ڈر انے والے اُمور جیسے سابقہ امتوں  پر آنے والے عذابات نے فائدہ نہ دیا۔( جلالین مع صاوی، القمر، تحت الآیۃ: ۵، ۶ / ۲۰۶۱)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now