Transliteration: (Fa ammaa man taaba wa aamana wa 'amila saalihan fa'asaaa ai yakoona minal mufliheen)
{فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ: تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا۔} اس سے پہلی آیات میں عذاب پانے والے کفار کا حال بیان ہوا اور اب یہاں سے کفار کو دنیا میں توبہ کی ترغیب دی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا جس شخص نے دنیا میں شرک سے توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ اس کی طرف سے نازل ہواہے اس پرایمان لے آیااوراس نے نیک کام کیے تو قریب ہے کہ وہ کامیاب ہونے والوں میں سے ہوگا۔( تفسیرکبیر، القصص، تحت الآیۃ: ۶۷، ۹ / ۱۰، مدارک، القصص، تحت الآیۃ: ۶۷، ص۸۷۷، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 67 تفسیر