قرآن - 28:68 سورہ القصص ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

68
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ

Transliteration: (Wa Rabbuka yakhuluqu maa yashaaa'u wa yakhtaar; maa kaana lahumul khiyarah; Subhannal laahi wa Ta'aalaa 'ammmaa yushrikoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُؕ-مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(68) || اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے ان کا کچھ اختیار نہیں پاکی اور برتری ہے الله کو اُن کے شرک سے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتاہے ۔ان (مشرکوں ) کا کچھ اختیار نہیں ۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔ || اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتاہے ۔ان (مشرکوں ) کا کچھ اختیار نہیں ۔ الله ان کے شرک سے پاک اور بلندوبالا ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 68 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ: اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔} شانِ نزول: یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں  نازل ہوئی جنہوں  نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت کے لئے کیوں  منتخب فرمایا ہے اور یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے شخص پر کیوں  نہ اُتارا؟یہ کلام کرنے والا ولید بن مغیرہ تھا اور بڑے آدمی سے وہ اپنے آپ کو اور عروہ بن مسعود ثقفی کو مراد لیتا تھا۔ اس کے جواب میں  یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ رسولوں  کا بھیجنا ان لوگوں  کے اختیار سے نہیں  بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے، اپنی حکمت وہی جانتا ہے انہیں  اُس کی مرضی میں  دخل دینے کی کیا مجال ہے۔( روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶ / ۴۲۳، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۴۳۹، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now