Transliteration: (Wa Rabbuka yakhuluqu maa yashaaa'u wa yakhtaar; maa kaana lahumul khiyarah; Subhannal laahi wa Ta'aalaa 'ammmaa yushrikoon)
{وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ: اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے۔} شانِ نزول: یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نبوت کے لئے کیوں منتخب فرمایا ہے اور یہ قرآن مکہ اور طائف کے کسی بڑے شخص پر کیوں نہ اُتارا؟یہ کلام کرنے والا ولید بن مغیرہ تھا اور بڑے آدمی سے وہ اپنے آپ کو اور عروہ بن مسعود ثقفی کو مراد لیتا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ رسولوں کا بھیجنا ان لوگوں کے اختیار سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہے، اپنی حکمت وہی جانتا ہے انہیں اُس کی مرضی میں دخل دینے کی کیا مجال ہے۔( روح البیان، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۶ / ۴۲۳، خازن، القصص، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۴۳۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ القصص آیت 68 تفسیر