قرآن - 53:3 سورہ النجم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

3
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ

Transliteration: (Wa maa yyantiqu 'anilhawaaa)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىﭤ(3)اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى(4) || اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔ وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنھیں کی جاتی ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔ || اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 3 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں  کہتے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کہتے تھے :قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں  بلکہ محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے،اس کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو کلام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں  اس کی کوئی بات وہ اپنی طرف سے نہیں  کہتے بلکہ اس قرآن کی ہر بات وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے کی جاتی ہے۔(خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴ / ۱۹۱، جلالین، النجم، تحت الآیۃ: ۳-۴، ص۴۳۷، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now