قرآن - 53:30 سورہ النجم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

30
ذَٰلِكَ مَبۡلَغُهُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَنِ ٱهۡتَدَىٰ

Transliteration: (Zalika mablaghuhum minal 'ilm; inna rabbaka huwa a'lamu biman dalla 'an sabee lihee wa huwa a'lamu bimanih tadaa)

ترجمہ: کنزالایمان - ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖۙ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى(30) || یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے بے شک تمہارارب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی۔ ترجمہ: کنزالعرفان یہ ان کے علم کی انتہا ہے ۔بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے ہدایت پائی۔ || یہ ان کے علم کی انتہا ہے ۔بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے ہدایت پائی۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 30 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ: یہ ان کے علم کی انتہاء ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ کفار اس قدر کم عقل اور کم علم ہیں  کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دے دی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اُن کے علم کی انتہا و ہم اورگمان ہیں  جو انہوں نے باند ھ رکھے ہیں  کہ (مَعَاذَاللہ) فرشتے خدا کی بیٹیاں  ہیں ،وہ ان کی شفاعت کریں  گے اور اس باطل وہم پر بھروسہ کرکے اُنہوں نے ایمان اور قرآن کی پرواہ نہ کی۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴ / ۱۹۶)

            اسی طرح ایک اور مقام پر کفار کے علم کی حد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚۖ-وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ‘‘(روم:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آنکھوں  کے سامنے کی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now