قرآن - 53:53 سورہ النجم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

53
وَٱلۡمُؤۡتَفِكَةَ أَهۡوَىٰ

ترجمہ: کنزالایمان - وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى(53)فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰى(54)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى(55) || اور اُس نے اُلٹنے والی بستی کو نیچے گرایا۔ تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا۔ تو اے سننے والے اپنے رب کی کونسی نعمتوں میں شک کرے گا۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور اس نے الٹنے والی بستیوں کو نیچے گرایا۔ پھر ان بستیوں کو اس نے ڈھانپ لیاجس نے ڈھانپ لیا۔ تو اے بندے! تواپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا؟ || اور اس نے الٹنے والی بستیوں کو نیچے گرایا۔ پھر ان بستیوں کو اس نے ڈھانپ لیاجس نے ڈھانپ لیا۔ تو اے بندے! تواپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النجم آیت 53 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى: اور اس نے الٹنے والی بستیوں  کو نیچے گرایا۔} ان بستیوں سے مراد حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیاں ہیں جنہیں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اٹھا کر اوندھا کر کے زمین پر ڈال دیا اور ان بستیوں  کو زیرو زبر کردیا۔ جلالین، النجم، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۴۳۹-۴۴۰)

{ فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰى: پھر ان بستیوں  کو اس نے ڈھانپ لیاجس نے ڈھانپ لیا۔} یعنی بستیوں  کو الٹنے کے بعداللہ تعالیٰ نے ان بستیوں  کو نشان لگے ہوئے پتھروں  کی خوفناک بارش سے ڈھانپ دیا۔( خازن، النجم، تحت الآیۃ:۵۴، ۴ / ۲۰۱)

{ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى: تو اے بندے! تواپنے رب کی کون کون سی نعمتوں میں شک کرے گا؟} یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نعمتیں  بے شمار ہیں  جن میں  سے بعض کا اوپر تذکرہ ہوا ، پھر اے بندے! تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی کون کون سی نعمتوں  میں  شک کرے گا ؟

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now