Transliteration: (Hattaaa izaa jaaa'oo qaala akazzabtum bi Aayaatee wa lam tuheetoo bihaa 'ilman ammaazaa kuntum ta'maloon)
{وَ یَوْمَ نَحْشُرُ: اور جس دن ہم اٹھائیں گے۔} یہاں سے قیامت کے بارے میں بیان فرمایا جا رہا ہے۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گروہ کو اٹھائیں گے جو انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل کردہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتا ہے تو ان کے پہلے لوگوں کو روکا جائے گا تاکہ ان کے بعد والے ان سے آملیں ، پھر انہیں حساب کی جگہ کی طرف چلایا جائے گایہاں تک کہ جب سب حسا ب کی جگہ میں حاضر ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم نے میرے رسولوں پر نازل کردہ میری آیتوں کو جھٹلایا تھا حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچا تھا اور تم نے اُن کی معرفت حاصل نہ کی تھی اور بغیر سوچے سمجھے ہی ان آیتوں کا انکار کردیا۔ جب تم اُن آیتوں میں غورو فکر کرنے کے اہم ترین کام میں مشغول نہ ہوئے توتم کیا کام کرتے تھے ؟ تم بے کار تو نہیں پیدا کئے گئے تھے ۔( مدارک ، النمل ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴ ، ص۸۵۷ ، خازن ، النمل ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ۳ / ۴۲۰، تفسیر کبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ۸ / ۵۷۳، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ النمل آیت 84 تفسیر