قرآن - 55:3 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

3
خَلَقَ ٱلۡإِنسَٰنَ

Transliteration: (Khalaqal insaan)

ترجمہ: کنزالایمان - خَلَقَ الْاِنْسَانَ(3)عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(4) || انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں سکھایا۔ ترجمہ: کنزالعرفان انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔ || انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 3 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{خَلَقَ الْاِنْسَانَ: انسان کو پیدا کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ’’انسان‘‘ اور’’ بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں  مفسرین کے مختلف قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے مراد دو عالَم کے سردار محمد مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور بیان سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخرین اور قیامت کے دن کی خبریں  دیتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  اور بیان سے مراد تمام چیزوں  کے اَسماء اور تما م زبانوں  کا بیان مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے اس کی جنس یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی تمام اولاد مراد ہے اور بیان سے مراد گفتگو کی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر حیوانوں  سے ممتاز ہوتا ہے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴ / ۲۰۸، صاوی، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۶ / ۲۲۷۳-۲۲۷۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now