قرآن - 55:40 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

40
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Transliteration: (Fabi ayyi aalaaa'i Rabbikumaa tukazzibaan.)

ترجمہ: کنزالایمان - فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ(39)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(40) || تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو اس دن کسی آدمی اور جِن سے اس کے گناہ کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || تو اس دن کسی آدمی اور جِن سے اس کے گناہ کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 40 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَیَوْمَىٕذٍ: تو اس دن۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جب لوگ قبروں سے اُٹھائے جائیں گے اور آسمان پھٹے گا تو اس دن فرشتے مجرموں سے دریافت نہیں کریں گے بلکہ ان کی صورتیں دیکھ کر ہی انہیں پہچان لیں گے اور ان سے سوال دوسرے وقت میں ہوگا جب کہ لوگ حساب کے مقام میں جمع ہوں گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن آسمان پھٹے گا تو اس دن قبروں سے نکلتے ہی فوراًکسی آدمی اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گابلکہ جب وہ حساب کی جگہ میں اکٹھے ہوں گے تو اس وقت ان سے پوچھا جائے گا۔(خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳۹، ۴ / ۲۱۲، روح البیان، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳۹، ۹ / ۳۰۳، صاوی، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳۹، ۶ / ۲۰۸۰، ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!تمہیں ان چیزوں کی خبر دینا جن سے ڈر کر تم گناہوں سے باز آ جاؤ اور دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر لو،یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، توتم دونوں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟( ابو سعود، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۰، ۵ / ۶۶۵، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now