قرآن - 55:42 سورہ الرحمن ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

42
فَبِأَيِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

ترجمہ: کنزالایمان - یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِ(41)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(42) || مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں گے تو ماتھا اور پاؤں پکڑ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے توانہیں پیشانی اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ || مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے توانہیں پیشانی اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الرحمن آیت 42 تفسیر


صراط الجنان — Siratul Jinan

{یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ: مجرم اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ (قیامت کے دن) مجرم اپنے چہروں سے اس طرح پہچانے جائیں گے کہ اُن کے منہ کالے اور آنکھیں نیلی ہوں گی، تو حساب کے بعد جہنم کے خازن انہیں پکڑیں گے اور ان کے ہاتھ گردن سے باندھ دیں گے اور ان کے پاؤں پیٹھ کے پیچھے سے لا کر پیشانیوں سے ملادیں گے، پھر  انہیں چہروں کے بل گھسیٹ کرجہنم میں ڈال دیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض مجرم پیشانیوں سے گھسیٹے جائیں گے اوربعض پاؤں سے گھسیٹ کر جہنم میں ڈالے جائیں گے۔( خازن، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴ / ۲۱۳، تفسیر سمرقندی، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۱، ۳ / ۳۰۹، ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!فرشتوں کا تم میں سے مجرموں اوراطاعت گزاروں کو ان کی علامات سے پہچان لینا اور صرف مجرموں کو ذلت اور توہین سے دوچار کرنا اور اطاعت گزاروں کو محفوظ رکھنا اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ، توتم دونوں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۴۲، ۱۱ / ۶۰۰)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now