قرآن - 30:36 سورہ الروم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

36
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ

Transliteration: (Wa izaaa azaqnan naasa rahmatan farihoo bihaa wa in tusibhum sayyi'atum bimaa qaddamat aydeehim izaa hum yaqnatoon)

ترجمہ: کنزالایمان - وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ(36) || اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں اس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچے بدلہ اس کا جو اُن کے ہاتھوں نے بھیجا جبھی وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں تواس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔ || اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں تواس پر خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ نا امید ہو جاتے ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 36 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً: اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں ۔} یعنی جب ہم لوگوں کو تندرستی اور وسعتِ رزق کا مزہ دیتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہو جاتے ہیں  اور ا س کی وجہ سے اِتراتے ہیں  اور اگر انہیں  ان کی مَعْصِیَت اور ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تواس وقت وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہو جاتے ہیں  اور یہ بات مومن کی شان کے خلاف ہے کیونکہ مومن کا حال یہ ہے کہ جب اُسے نعمت ملتی ہے تو وہ شکر گزاری کرتا ہے اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اُمیدوار رہتا ہے۔( مدارک، الروم، تحت الآیۃ: ۳۶، ص۹۰۹، خازن، الروم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۳ / ۴۶۴، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now