قرآن - 30:37 سورہ الروم ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

37
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ

Transliteration: (Awalam yaraw annal laaha yabsutur rizqa limai yashaaa'u wa yaqdir; inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy yu'minoon)

ترجمہ: کنزالایمان - اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(37) || اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ الله رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لئے چاہے بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ الله رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ فرمادیتا ہے، بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔ || اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ الله رزق وسیع فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ فرمادیتا ہے، بیشک اس میں ایمان والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الروم آیت 37 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اَوَ لَمْ یَرَوْا: اور کیا انہوں  نے نہ دیکھا۔} یعنی کیا مشرکوں  نے ا س چیز کا مشاہدہ نہیں  کیا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے رزق وسیع فرما دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے رزق تنگ فرما دیتا ہے۔ رزق کی وسعت میں  حکمت یہ ہے کہ وسیع رزق میں  اس شخص کی بھلائی ہوتی ہے یا ا س کا امتحان مقصود ہوتاہے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں  اور رزق کی تنگی میں  حکمت یہ ہے کہ اس شخص کے نظام کی درستی تھوڑے رزق میں  ہوتی ہے یااس کا امتحان مقصود ہوتا ہے کہ وہ رزق کی تنگی پر صبر کرتا ہے یا نہیں ۔بے شک رزق کی اس تنگی اور وسعت میں  ایمان والوں  کیلئے نشانیاں  ہیں  اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال اور حکمت پر اِستدلال کرتے ہیں ۔( روح البیان، الروم، تحت الآیۃ: ۳۷، ۷ / ۳۸، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now