Transliteration: (Awalam yaraw annaa nasooqul maaa'a ilal ardil juruzi fanukhriju bihee zar'an ta'kulu minhu an'aamuhum wa anfusuhum afalaa yubsiroon)
{اَوَ لَمْ یَرَوْا: اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔} یعنی کیا مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا انکار کرنے والوں نے نہیں دیکھا کہ ہم خشک زمین کی طرف جس میں سبزہ کا نام و نشان نہیں ہوتا ،پانی بھیجتے ہیں ، پھر اس زمین سے پانی کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھوسہ کھاتے ہیں اور یہ لوگ خود غلہ کھاتے ہیں تو کیا وہ نہیں سمجھتے کہ یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال پر اِستدلال کریں اور سمجھیں کہ جو قادرِ برحق خشک زمین سے کھیتی نکالنے پر قادر ہے تو مُردوں کوزندہ کردینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔( تفسیر طبری، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۱۰ / ۲۵۱، مدارک، السجدۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۹۲۸، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ السجدة آیت 27 تفسیر