Transliteration: (Qaala Rabbi inneee akhaafu ai yukazziboon)
{قَالَ: عرض کی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کا حکم سن کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عرض کی ’’اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا ئیں گے اوران کے جھٹلانے سے میرا سینہ تنگ ہوگا اور میں نے بچپن میں جو آگ کا انگارہ منہ میں رکھا تھا ا س کی وجہ سے مجھے گفتگو کرنے میں بھی کچھ تَکَلُّف ہوتا ہے تو تو میرے بھائی ہارون کو بھی رسول بنا دے تاکہ وہ رسالت کی تبلیغ میں میری مدد کریں ۔جس وقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شام میں نبوت عطا کی گئی اس وقت حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام مصر میں تھے۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ۳ / ۳۸۳، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲-۱۳، ص۸۱۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 12 تفسیر