قرآن - 26:122 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

122
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ

Transliteration: (Wa inna Rabbaka la huwal 'Azeezur Raheem (section 6))

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(121)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ(122) || بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی عزت والا مہربان ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔ || بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارا رب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 122 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے۔} یعنی حق سے تکبر کرنے اور غریب مسلمانوں  کو حقیر جاننے کی وجہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا جو انجام ہوا اس میں  بعد والوں  کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶ / ۲۹۳)

{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں  اکثر مسلمان نہ تھے۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں  سے مسلمان ہونے والے مرد و عورت کی تعداد 80تھی اوراس آیت میں  حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ ہمیشہ تھوڑے لوگ ہی ایمان اور ہدایت قبول کرتے ہیں ۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶ / ۲۹۳)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now