Transliteration: (Wa inna Rabbaka la huwal 'Azeezur Raheem (section 6))
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں ضرور نشانی ہے۔} یعنی حق سے تکبر کرنے اور غریب مسلمانوں کو حقیر جاننے کی وجہ سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا جو انجام ہوا اس میں بعد والوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶ / ۲۹۳)
{وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ: اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔} حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم میں سے مسلمان ہونے والے مرد و عورت کی تعداد 80تھی اوراس آیت میں حضور انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے کہ ہمیشہ تھوڑے لوگ ہی ایمان اور ہدایت قبول کرتے ہیں ۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۶ / ۲۹۳)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 122 تفسیر