Transliteration: (Iz qaala lahum akhoohum Lootun alaa tattaqoon)
{كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ: لوط کی قوم نے
جھٹلایا۔} یہاں سے
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔
چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے اس وقت
آپ کو جھٹلا کر تما م رسولوں کو جھٹلایا جب آپ نے ان سے فرمایا: ’’اے
میری قوم:کیا تم شرک اور دیگر گناہوں پر اللہ تعالٰی کے عذاب سے
نہیں ڈرتے،بیشک میں تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے تمہارے لیے ا س کی وحی اور رسالت
پر امانتدار رسول ہوں تو تم اللہ تعالٰی کے رسول کو جھٹلا کر اپنے اوپر اللہ تعالٰی کا عذاب نازل ہونے سے ڈرو اور جس سیدھے راستے پر چلنے کی
میں تمہیں دعوت دے رہا ہوں اس
میں میری اطاعت کرو۔ اور میں اس تبلیغ اور تعلیم پر تم
سے کچھ اجرت اور دُنْیَوی مَنافع کا مطالبہ نہیں کرتا، میرا اجرو ثواب
توصرف ربُّ العٰلمین کے ذمہ ِکرم پرہے۔(روح البیان،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۶۰-۱۶۴،۶ / ۳۰۱،تفسیر طبری،الشعراء،تحت الآیۃ:۱۶۰-۱۶۴،۹ / ۴۶۹،ملتقطاً)
نوٹ: یہ
واقعہ سورۂ اَعراف، آیت نمبر80تا84۔سورۂ ہود،آیت نمبر74تا83۔سورۂ
حجر،آیت نمبر58تا77 میں گزر چکا ہے۔
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 161 تفسیر