Transliteration: (Wa inna Rabbaka la Huwal 'Azeezur Raheem (section 8))
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی کافروں پر عذاب نازل کرنے میں غلبے
والا اور ایمان لانے والوں کو نجات دے کر ان پر مہربانی فرمانے والا ہے
جیسا کہ قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا تو اللہ تعالٰی نے ان پر ایساعذاب نازل فرمایا جس نے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر
رکھ دیا، اس لئے سابقہ قوموں کے عذابات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے آپ کے
حکم کی مخالفت کرنے والوں کو بھی اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرنا چاہئے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۶ / ۳۰۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 159 تفسیر