قرآن - 26:157 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

157
فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ

Transliteration: (Fa'aqaroohaa fa asbahoo naadimeen)

ترجمہ: کنزالایمان - فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَ(157) || اس پر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں پھر صبح کو پچتاتے رہ گئے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو انہوں نے اس کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں پھرصبح کو پچھتاتے رہ گئے۔ || تو انہوں نے اس کے پاؤں کی رگیں کاٹ دیں پھرصبح کو پچھتاتے رہ گئے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 157 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَعَقَرُوْهَا: تو انہوں  نے اس کے پاؤں  کی رگیں  کاٹ دیں ۔} ارشاد فرمایا کہ انہوں  نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے سمجھانے کے باوجوداس اونٹنی کے پاؤں  کی رگیں  کاٹ دیں  تو صبح کو پچھتاتے رہ گئے۔ پاؤں  کی رگیں کاٹنے والے شخص کا نام قدار تھا اور چونکہ لوگ اس کے اس فعل سے راضی تھے اس لئے پاؤں  کی رگیں  کاٹنے کی نسبت ا ن سب کی طرف کی گئی اور ان کا پچھتانا پاؤں  کی رگیں  کاٹ دینے پر عذاب نازل ہونے کے خوف سے تھا، نہ کہ وہ مَعصِیَت پر توبہ کرتے ہوئے نادم ہوئے تھے یا وہ عذاب کا مُعایَنہ کر کے نادم ہوئے تھے اور ایسے وقت کی ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ص۸۲۸)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now