قرآن - 26:158 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

158
فَأَخَذَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ

Transliteration: (Fa akhazahumul 'azaab; inna fee zaalika la Aayah; wa maa kaana aksaruhum mu'mineen)

ترجمہ: کنزالایمان - فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(158) || تو انہیں عذاب نے آلیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔ ترجمہ: کنزالعرفان تو انہیں عذاب نے پکڑلیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔ || تو انہیں عذاب نے پکڑلیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 158 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ:  تو انہیں  عذاب نے پکڑلیا۔} یعنی جس عذاب کی انہیں  خبر دی گئی تھی اس نے انہیں  پکڑ لیا اوروہ لوگ ہلاک ہو گئے۔ قومِ ثمود پر آنے والے عذاب میں  ضرور عبرت کی نشانی ہے کہ نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی صداقت پر نشانی ظاہر ہو جانے کے بعد بھی کفر پر قائم رہنا عذاب نازل ہونے کا سبب ہے اور حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انتہائی تبلیغ کے باوجود بہت تھوڑے لوگ ان پر ایمان لائے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۵۸، ۶ / ۳۰۰)    تو اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اگر آپ پر سارے عرب والے ایمان نہ لائیں  تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غم نہ فرمائیں ، اس کی وجہ یہ نہیں  کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تبلیغ میں  کوتاہی ہے بلکہ یہ خود بد نصیب ہیں ۔

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now