Transliteration: (Rabbi najjjinee wa ahlee mimmmaa ya'maloon)
{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’میں تمہارے کام سے بیزار اور اس سے شدید نفرت
کرنے والوں میں سے ہوں اور مجھے اس سے شدید
دشمنی ہے۔ پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مجھے اور میرے گھر
والوں کو ان کے اعمال پر آنے والے
عذاب سے محفوظ رکھ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۸-۱۶۹، ۳ / ۳۹۴، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۶۸-۱۶۹، ص۸۲۹، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 169 تفسیر