Transliteration: (Illaa 'ajoozan filghaabireen)
{فَنَجَّیْنٰهُ: تو ہم نے اسے نجات بخشی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ان کی بیٹیوں اور ان تمام لوگوں کو جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لائے تھے عذاب سے نجات بخشی لیکن ایک بڑھیا جو پیچھے رہ جانے
والوں میں سے تھی اسے نجات نہ بخشی۔ یہ بڑھیا حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بیوی تھی،یہ چونکہ اپنی قوم کے فعل پر راضی تھی اور جو گناہ پر راضی ہو وہ
بھی گناہ کرنے والے کے حکم میں ہوتا ہے اسی لئے وہ بڑھیا عذاب
میں گرفتارہوئی اور اس نے نجات نہ پائی۔( مدارک،
الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۷۰-۱۷۱، ص۸۲۹)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 171 تفسیر