Transliteration: (Fakazzaboohu fa akhazahum 'azaabu Yawmiz zullah; innahoo kaana 'azaaba Yawmin 'Azeem)
{قَالَ: فرمایا۔} حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان
لوگوں کا جواب سن کر ان سے فرمایا :میرا رب عَزَّوَجَلَّ تمہارے اعمال کو اور
جس عذاب کے تم مستحق ہو اسے خوب جانتا ہے، وہ اگر چاہے گا تو آسمان کا کوئی ٹکڑ
اتم پر گرا دے گایاتم پر کوئی اور عذاب نازل کرنا اس کی مَشِیَّت
میں ہو گا تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ وہ عذاب تم پر نازل فرمادے گا۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸۸، ص۸۳۰)
{فَكَذَّبُوْهُ: تو انہوں نے
اسے جھٹلایا۔} ارشاد
فرمایا کہ جنگل والوں نے حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا
تو انہیں شامیانے کے دن کے عذاب نے پکڑلیا، بیشک وہ بڑے دن کا
عذاب تھا جو کہ اس طرح ہوا کہ انہیں شدید گرمی پہنچی، ہوا بند ہوئی
اور سات دن گرمی کے عذاب میں گرفتار رہے۔ تہ
خانوں میں جاتے وہاں اور زیادہ گرمی پاتے۔ اس کے
بعد ایک بادل آیا سب اس کے نیچے آکے جمع ہوگئے تو اس سے آگ برسی اور سب جل گئے۔( مدارک، الشعراء، تحت
الآیۃ: ۱۸۹،
ص۸۳۰)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 189 تفسیر