قرآن - 26:190 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

190
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗۖ وَمَا كَانَ أَكۡثَرُهُم مُّؤۡمِنِينَ

Transliteration: (Inna fee zaalika la Aayah; wa maa kaana aksaruhum mu'mineen)

ترجمہ: کنزالایمان - اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةًؕ-وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(190)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ(191) || بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں بہت مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارار ب ہی عزت والا مہربان ہے۔ ترجمہ: کنزالعرفان بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارار ب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔ || بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔ اور بیشک تمہارار ب ہی غلبے والا، مہربان ہے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 190 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً:  بیشک اس میں  ضرور نشانی ہے۔} یعنی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور جنگل والوں کا جویہ واقعہ بیان کیاگیا اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور عبرت کی نشانی ہے اور ان جنگل والوں کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۰، ۶ / ۳۰۴-۳۰۵)

{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارار ب۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی غالب اور ہر ممکن چیز پر قادر ہے اور اس کی ایک دلیل انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد فرمانا ہے اور بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی لوگوں کو مہلت دے کر مہربانی فرمانے والاہے۔(روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۶ / ۳۰۵)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now