Transliteration: (Inna fee zaalika la Aayah; wa maa kaana aksaruhum mu'mineen)
{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً: بیشک اس میں ضرور نشانی
ہے۔} یعنی حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور جنگل والوں کا
جویہ واقعہ بیان کیاگیا اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور عبرت کی نشانی ہے اور ان جنگل
والوں کے اکثر لوگ مسلمان نہ تھے۔( روح البیان، الشعراء،
تحت الآیۃ: ۱۹۰، ۶ / ۳۰۴-۳۰۵)
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارار ب۔} یعنی اے
حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی غالب اور ہر
ممکن چیز پر قادر ہے اور اس کی ایک دلیل انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دشمنوں کے خلاف
ان کی مدد فرمانا ہے اور بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی لوگوں کو مہلت دے کر مہربانی فرمانے والاہے۔(روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۱، ۶ / ۳۰۵)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 190 تفسیر