Transliteration: (Wa innahoo latanzeelu Rabbil 'aalameen)
{وَ اِنَّهٗ: اور بیشک یہ قرآن۔} انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کرنے کے بعد
یہاں سے اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت و رسالت پر دلالت کرنے والی چیز کاذکر فرمایاہے، چنانچہ
ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن سب جہانوں کے رب تعالٰی کا اتارا ہوا ہے کسی شاعر، جادو گر یا کاہن کا کلام نہیں جیسا کہ اے
کفار تم گمان کرتے ہو۔( تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۸ / ۵۳۰، صاوی، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹۲، ۴ / ۱۴۷۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 192 تفسیر