Transliteration: (Wa fa'alta fa'latakal latee fa'alta wa anta minal kaafireen)
{قَالَ: کہا۔} جب فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو پہچان لیا تو احسان جتاتے ہوئے آپ سے کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے شاہی محل میں بچپن میں نہ پالا ؟اور تم نے ہما رے محل میں اپنی عمر کے کئی سال گزارے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون کے محل میں تیس سال گزارے اوراس زمانے میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرعون کے عمدہ لباس پہنتے تھے اور اس کی سواریوں میں سوار ہوتے تھے اور اس کے فرزند کے طور پر مشہور تھے۔( جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۳۱۰، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۸، ۶ / ۲۶۷، ملتقطاً)
{وَ فَعَلْتَ: اور تم نے کیا۔} فرعون نے مزید یہ کہا کہ اے موسیٰ! تم نے ہمارے احسانات کے باوجود قبطی کو قتل کیااور تم شکریہ ادا کرنے والوں میں سے نہیں ہو کیونکہ تم نے ہماری نعمت کی شکرگزاری نہ کی اور ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۳۸۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 19 تفسیر