قرآن - 26:21 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

21
فَفَرَرۡتُ مِنكُمۡ لَمَّا خِفۡتُكُمۡ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكۡمٗا وَجَعَلَنِي مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ

Transliteration: (Fafarartu minkum lam maa khiftukum fawahaba lee Rabbee hukmanw wa ja'alanee minal mursaleen)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَﭤ(20)فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ(21) || موسیٰ نے فر ما یا میں نے وہ کام کیا جب کہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔ تو میں تمھا رے یہا ں سے نکل گیا جب کہ تم سے ڈرا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں سے کیا۔ ترجمہ: کنزالعرفان موسیٰ نے فر ما یا: میں نے وہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔ پھرجب میں نے تم لوگوں سے ڈر محسوس کیا تو میں تمہارے پاس سے نکل گیا تو میرے رب نے مجھے حکمت عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے کردیا۔ || موسیٰ نے فر ما یا: میں نے وہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ مجھے راہ کی خبر نہ تھی۔ پھرجب میں نے تم لوگوں سے ڈر محسوس کیا تو میں تمہارے پاس سے نکل گیا تو میرے رب نے مجھے حکمت عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے کردیا۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 21 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ: موسیٰ نے فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فر ما یا’’میں  نے قبطی والاوہ کام اس وقت کیا تھا جب میں  نہ جانتا تھا کہ گھونسہ مارنے سے وہ شخص مرجائے گا کیونکہ میرا مارنا ادب سکھانے کیلئے تھا نہ کہ قتل کرنے کیلئے۔پھرجب میں  نے تم لوگوں  سے ڈر محسوس کیا کہ اس کے بدلے تم مجھے قتل کردوگے تو میں  تمہارے پاس سے مَدیَن شہر کی طرف نکل گیا اور مدین سے مصر آتے وقت کوہِ طور کے پاس مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں  میں  سے کردیا۔ یہاں  حکم سے نبوت یا علم مراد ہے۔(خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ۳ / ۳۸۴، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ص۸۱۶، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now