Transliteration: (Fafarartu minkum lam maa khiftukum fawahaba lee Rabbee hukmanw wa ja'alanee minal mursaleen)
{قَالَ: موسیٰ نے فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فر ما یا’’میں نے قبطی والاوہ کام اس وقت کیا تھا جب میں نہ جانتا تھا کہ گھونسہ مارنے سے وہ شخص مرجائے گا کیونکہ میرا مارنا ادب سکھانے کیلئے تھا نہ کہ قتل کرنے کیلئے۔پھرجب میں نے تم لوگوں سے ڈر محسوس کیا کہ اس کے بدلے تم مجھے قتل کردوگے تو میں تمہارے پاس سے مَدیَن شہر کی طرف نکل گیا اور مدین سے مصر آتے وقت کوہِ طور کے پاس مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے حکم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں میں سے کردیا۔ یہاں حکم سے نبوت یا علم مراد ہے۔(خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ۳ / ۳۸۴، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰-۲۱، ص۸۱۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 21 تفسیر