Transliteration: (Wa maa tanazzalat bihish Shayaateen)
{وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهٖ: او راس قرآن کو لے کر نہ اترے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں ان کفار کا رد کیا گیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ جس طرح شَیاطین کاہنوں کے پاس آسمانی خبریں لاتے ہیں اسی طرح وہ (مَعَاذَاللہ)رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس قرآن لاتے ہیں ۔ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے اورنہ ہی وہ اس قابل تھے کہ قرآن لے کر آئیں اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ یہ اُن کی طاقت سے باہر ہے۔وہ تو فرشتوں کاکلام سننے کی جگہ آسمان سے شعلے مار کردور کردئیے گئے ہیں یعنی انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف جو وحی ہوتی ہے، اسے اللہ تعالٰی نے محفوظ کردیا ہے۔ جب تک کہ فرشتہ اس کو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں پہنچا نہ دے اس سے پہلے شیاطین اس کو نہیں سن سکتے۔(ابوسعود، الشعراء، تحت الآیۃ:۲۱۰-۲۱۲،۴ / ۱۸۱،جلالین مع جمل، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۰-۲۱۲، ۵ / ۴۱۲، ملتقطًا)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 210 تفسیر