Transliteration: (Wa naza'a yadahoo faizaa hiya baidaaa'u linnaa zireen (section 2))
{فَاَلْقٰى عَصَاهُ: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے نشانی طلب کرنے پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو اچانک وہ بالکل واضح ایک بہت بڑا سانپ بن گیا اور فرعون کی طرف متوجہ ہوکرکہنے لگا: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، مجھے جو چاہے حکم دیجئے۔ فرعون نے گھبرا کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا: اس کی قسم جس نے تمہیں رسول بنایا، اس کو پکڑلو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کو اپنے دست ِمبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ فرعون کہنے لگا: اس کے سوا اور بھی کوئی معجزہ ہے؟ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ہاں !اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو اچانک اس سے سورج کی سی شعاع ظاہر ہوئی جس سے دیکھنے والوں کی نگاہیں چکاچوند ہو گئیں ۔( خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۲-۳۳، ۳ / ۳۸۵، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 33 تفسیر