قرآن - 26:31 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

31
قَالَ فَأۡتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

Transliteration: (Qaala faati biheee in kunta minas saadiqeen)

ترجمہ: کنزالایمان - قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ(30)قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(31) || فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں ۔ کہا تو لاؤ اگر سچے ہو۔ ترجمہ: کنزالعرفان موسیٰ نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لے آؤں ۔ ۔ (فرعون نے) کہا: (اے موسیٰ!) اگر تم سچوں میں سے ہو تو وہ نشانی لے آ ؤ۔ || موسیٰ نے فرمایا: کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لے آؤں ۔ ۔ (فرعون نے) کہا: (اے موسیٰ!) اگر تم سچوں میں سے ہو تو وہ نشانی لے آ ؤ۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 31 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{قَالَ: فرمایا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون سے فرمایا: کیاتو مجھے قید کرے گا اگرچہ میں  تیرے پاس کوئی حق اور باطل میں  فرق واضح کرنے والا کوئی معجزہ لے کر آؤں  اور یہ معجزہ اللہ تعالٰی کے موجود ہونے اور میری رسالت کی دلیل ہو۔ اس پر فرعون نے کہا: اے موسیٰ!اگر تم اپنے دعوے کی صداقت پر دلیل پیش کرنے میں  سچوں  میں  سے ہو تو وہ نشانی لے آؤ۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۰- ۳۱، ص۸۱۸،  روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۰- ۳۱، ص۸۱۸، ۶ / ۲۷۰، ملتقطاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now