Transliteration: (Qaalooo arjih wa akhaahu wab'as filmadaaa'ini haashireen)
{قَالُوْا: انہوں نے کہا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ فرعون کے مشورہ طلب کرنے پر سرداروں نے اس سے کہا’’تم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اس کے بھائی ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مہلت دو اور جب تک ان کا جھوٹاہونا ظاہر نہیں ہو جاتا اس وقت تک انہیں قتل کرنے میں جلدی نہ کرو تاکہ لوگ تمہارے بارے میں برا گمان نہ کریں اور تمہارے پاس انہیں قتل کرنے کا عذر بھی ہو جائے، اس کے لئے تم یوں کرو کہ مختلف شہروں میں جادوگروں کوجمع کرنے والے بھیجو اور وہ تمہارے پاس ہر بڑے علم والے جادوگرکو لے آئیں جوجادو کے علم میں (بقول اُن کے) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بڑھ کر ہواور وہ لوگ اپنے جادو سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات کا مقابلہ کریں تاکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے کوئی حجت باقی نہ رہے اور فرعونیوں کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ کام جادو سے ہوجاتے ہیں ، لہٰذا یہ نبوت کی دلیل نہیں ہیں ۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۶-۳۷، ۶ / ۲۷۱-۲۷۲، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 36 تفسیر