Transliteration: (La'allanaa nattabi'us saharata in kaanoo humul ghaalibeen)
}فَجُمِـعَ: توجمع کرلیا گیا۔{ اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جادو گروں کو فرعونیوں کی عید کے دن جمع کر لیا گیا اور اس مقابلے کے لئے چاشت کا وقت مقرر کیا گیا اورفرعون کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا :کیا تم بھی جمع ہوگے تاکہ دیکھو کہ دونوں فریق کیا کرتے ہیں اور اُن میں سے کون غالب آتا ہے۔شاید ہم ان جادوگروں ہی کی پیروی کریں اگر یہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوجائیں ۔ اس سے ان کا مقصود جادو گروں کی پیروی کرنا نہ تھا بلکہ غرض یہ تھی کہ اس حیلے سے لوگوں کو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی کرنے سے روکیں۔(مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۸-۴۰، ص۸۱۹، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۸-۴۰، ۳ / ۳۸۶، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 40 تفسیر