قرآن - 26:42 سورہ الشعراء ترجمہ، نقل اور تفسیر (تفسیر).

42
قَالَ نَعَمۡ وَإِنَّكُمۡ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡمُقَرَّبِينَ

Transliteration: (Qaala na'am wa innakum izal laminal muqarrabeen)

ترجمہ: کنزالایمان - فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَىٕنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ(41)قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ(42) || پھر جب جادوگر آئے فرعون سے بولے کیا ہمیں کچھ مزدوری ملے گی اگر ہم غالب آئے۔ بولا ہاں اور اس وقت تم میرے مقرب ہوجاؤ گے۔ ترجمہ: کنزالعرفان پھر جب جادوگر آئے توانہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے اگر ہم غالب ہوگئے۔ ۔ (فرعون نے) کہا: ہاں اور اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں میں سے ہوجاؤ گے۔ || پھر جب جادوگر آئے توانہوں نے فرعون سے کہا: کیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے اگر ہم غالب ہوگئے۔ ۔ (فرعون نے) کہا: ہاں اور اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں میں سے ہوجاؤ گے۔

صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 42 تفسیر




صراط الجنان — Siratul Jinan

{فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ: پھر جب جادوگر آئے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادوگر فرعون کے پاس آئے توانہوں  نے فرعون سے کہا:اگر ہم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوگئے توکیا ہمارے لئے کوئی معاوضہ بھی ہے ؟ فرعون نے کہا: ہاں  ہے اورکوئی معمولی معاوضہ نہیں  بلکہ اس وقت تم میرے نہایت قریبی لوگوں  میں  سے ہوجاؤ گے، تمہیں  درباری بنالیا جائے گا، تمہیں  خاص اعزاز دیئے جائیں  گے، سب سے پہلے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور سب سے بعد تک دربار میں  رہو گے۔( مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲، ص۸۱۹، ملخصاً)

Sign up for Newsletter

×

Download Our Quran App

For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.

Download Now