Transliteration: (Qaala lahum Moosaaa alqoo maaa antum mulqoon)
{قَالَ لَهُمْ: موسیٰ نے ان سے فرمایا۔} فرعون سے معاوضے کا وعدہ لینے کے بعد جادو گروں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی: کیا آپ پہلے اپنا عصا ڈالیں گے یا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اپنا جادو کا سامان ڈالیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان جادوگروں سے فرمایا:تم اپنا وہ سامان زمین پرڈالو جو تم ڈالنے والے ہو تاکہ تم اس کا انجام دیکھ لو۔( جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۳۱۱، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۸۱۹، ملتقطاً)
{فَاَلْقَوْا: تو انہوں نے ڈال دیں ۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کہنے پر جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اورکہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم :بیشک ہم ہی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر غالب ہوں گے۔ جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم اس لئے کھائی کہ انہیں اپنے غلبہ کا اطمینان تھا کیونکہ جادوکے اعمال میں سے جو انتہا کے عمل تھے یہ اُن کو کام میں لائے تھے اور کامل یقین رکھتے تھے کہ اب کوئی جادو اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۴، ۶ / ۲۷۳، ملخصاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 43 تفسیر