Transliteration: (Fa alqaa Moosaa 'asaahu fa izaa hiya talqafu maa yaafikoon)
{ فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ: تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادو گروں نے رسیاں ڈال دیں توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا تو وہ اسی وقت بہت بڑا سانپ بن کراُن رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنے لگا جو جادو کی وجہ سے اژدھے بن کر دوڑتے نظر آرہے تھے،جب وہ اُن سب کو نگل گیا اور اس کے بعدحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے اپنے دست ِمبارک میں لیا تو وہ پہلے کی طرح عصا تھا۔ جادوگروں نے جب یہ منظر دیکھا تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں ہے اور یہ دیکھنے کے بعد ان پر ایسااثر ہوا کہ وہ بے اختیار اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے اور یوں لگتا تھا جیسے کسی نے انہیں پکڑ کر سجدے میں گرا دیا ہو،پھر جادو گروں نے سچے دل سے کہا: ہم ا س پر ایمان لائے جو سارے جہان کا رب عَزَّوَجَلَّ ہے اور جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رب عَزَّوَجَلَّ ہے۔(خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۸، ۳ / ۳۸۶، روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۵-۴۸، ۶ / ۲۷۳-۲۷۴، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 45 تفسیر