Transliteration: (Qaala aamantum lahoo qabla an aazana lakum innahoo lakabeerukumul lazee 'alla makumus sihra falasawfa ta'lamoon; la uqatti'anna aidiyakum wa arjulakum min khilaafinw wa la usallibanna kum ajma'een)
{قَالَ: فرعون نے کہا۔} جب جادو گر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لے آئے تو فرعون نے ان سے کہا: ’’کیا تم میری اجازت کے بغیر ہی اس پر ایمان لے آئے۔ بیشک موسیٰ تمہارا بڑا استادہے، جس نے تمہیں جادو سکھایا، اسی لئے وہ تم پر غالب آ گئے اور تم نے آپس میں مل کر میرے خلاف سازش کی اور میرے ملک میں فساد پھیلانے کی کوشش کی، اب تم جان جاؤ گے کہ تمہارے ا س عمل کی وجہ سے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیاجاتا ہے۔ مجھے قسم ہے! عنقریب میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو پھانسی دے دوں گا۔ اس گفتگوسے فرعون کا ایک مقصد یہ تھا کہ لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور وہ یہ نہ سمجھیں کہ جادوگروں پر حق ظاہر ہو گیا اسی لئے وہ ایمان لے آئے اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ عام مخلوق ڈر جائے اور لوگ جادو گروں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان نہ لے آئیں ۔( روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۹، ۶ / ۲۷۴-۲۷۵، مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۸۱۹-۸۲۰، ملتقطاً)
For a faster and smoother experience,
install our mobile app now.
صراط الجنان (Siratul Jinan) — سورہ الشعراء آیت 49 تفسیر